(۳۰۲۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ فَجَعَلَ النَّاسَ یَجْہَرُونَ بِالتَّکْبِیرِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ارْبَعُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ فَإِنَّکُمْ لیس تَدْعُونَ أَصَمَّ ، وَلا غَائِبًا ، إنَّکُمْ تَدْعُونَہُ سَمِیعًا قَرِیبًا وَہُوَ مَعَکُمْ۔
(٣٠٢٨١) حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ پس لوگ بلند آواز میں تکبیر کہہ رہے تھے۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اپنی جانوں پر نرمی کرو۔ تم لوگ کسی بہرے کو اور نہ ہی غیر موجود کو پکار رہے ہو۔ بلکہ تم لوگ ایسی ذات کو پکار رہے ہو جو سننے والا اور قریب ہے اور وہ ذات تمہارے ساتھ ہے۔