(۳۰۳۳۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عَطَائٍ ، عَن عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : صَلَّیْت خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الْغَدَاۃَ فَقَالَ فِی قُنُوتِہِ : اللَّہُمَّ إنَّا نَسْتَعِینُک وَنَسْتَغْفِرُک وَنُثْنِی عَلَیْک الْخَیْرَ ، وَلا نَکْفُرُک ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مِنْ یَفْجُرُکَ ، اللَّہُمَّ إیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَک نُصَلِّی وَنَسْجُدُ ، وَإِلَیْک نَسْعَی وَنَحْفِدُ ، وَنَرْجُو رَحْمَتَکَ وَنَخْشَی عَذَابَک ، إنَّ عَذَابَک بِالْکَافِرِینَ مُلْحَقٌ۔
(٣٠٣٣٢) حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب کے پیچھے صبح کی نماز پڑھی ، تو انھوں نے قنوت فجر میں یہ دعا پڑھی : اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے معافی مانگتے ہیں۔ اور تیری بہت اچھی تعریف کرتے ہیں۔ اور ہم تیری نا شکری نہیں کرتے۔ اور ہم الگ ہوتے ہیں اور چھوڑتے ہیں اس شخص کو جو تیری نافرمانی کرے۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔ اور تیری طرف ہی دوڑتے ہیں اور تیری خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ اور ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بیشک تیرا عذاب تو کافروں کو ملنے والا ہے۔