(۳۰۳۵۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَن دَاوُد ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی أَبِی أسَیْدَ : تَزَوَّجْت وَأَنَا مَمْلُوکٌ فَدَعَوْت نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ منہم أبو مَسْعُودٍ ، وَأَبُو ذَرٍّ وَحُذَیْفَۃُ یُعَلِّمُونَنِی ، فَقَالَ : إذَا دَخَلَ عَلَیْک أَہْلُک فَصَلِّ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلِ اللَّہَ مِنْ خَیْرِ مَا دَخَلَ عَلَیْک ، ثُمَّ تَعَوَّذْ بِہِ مِنْ شَرِّہِ ، ثُمَّ شَأْنُکَ وَشَأْنُ أَہْلِک۔
(٣٠٣٥٢) حضرت ابو سعید جو کہ ابو اسید کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں : میں نے شادی کی اس حال میں کہ میں غلام تھا۔ پس میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک جماعت کو دعوت دی جن میں حضرت ابو مسعود اور حضرت ابو ذر اور حضرت حذیفہ وغیرہ حضرات بھی شامل تھے۔ ان لوگوں نے مجھے آداب سکھائے پس کہنے لگے : جب تیرے گھر والے تیرے پاس حاضر ہوں پس تو دو رکعت نماز پڑھ۔ اور اللہ سے خیر مانگ ان کے تیرے پاس آنے کی۔ پھر ان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگ۔ پھر تو جانے اور تیرے گھر والے۔