(۳۰۳۵۵) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ الْقَہْرَمَانِیِّ ، عَن سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : مَا مِنْ رَجُلٍ یَرَی مُبْتَلًی فَیَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی عَافَانِی مِمَّا ابْتَلاک بِہِ وَفَضَّلَنِی عَلَیْک ، وَعَلَی کَثِیرٍ مِنْ خَلْقِہِ تَفْضِیلاً إِلاَّ عَافَاہُ اللَّہُ مِنْ ذَلِکَ الْبَلائِ کَائِنًا مَا کَانَ۔ (ترمذی ۳۴۳۱۔ ابن ماجہ ۳۸۹۲)
(٣٠٣٥٥) حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے ارشاد فرمایا : کوئی بھی آدمی کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھ کر یہ دعا نہیں پڑھتا : شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے اس چیز سے عافیت میں رکھا جس میں تجھ کو مبتلا کیا ہے، اور مجھے تجھ پر اور بہت سی مخلوق پر نمایاں طور پر فضیلت دی۔ مگر یہ کہ اللہ اس بندے کو اس مصیبت میں مبتلا نہیں فرمائیں گے وہ مصیبت جیسی بھی ہو۔