(۳۰۳۶۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ عن سفیان ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أَخِیہِ عِیسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ أَبِی أَیُّوبَ ، أَنَّہُ کَانَ فِی سَہْوَۃٍ لَہُ فَکَانَتِ الْغُولُ تَجِیئُ ، فَشَکَاہَا إِلَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إذَا رَأَیْتہَا فَقُلْ : بِسْمِ اللہِ أَجِیبِی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: فَجَائَتْہُ فَقَالَ : لَہَا فَأَخَذَہَا فَقَالَتْ لَہُ : إنِّی لاَ أَعُودُ ، فَأَرْسَلِہَا ، فَجَائَ فَقَالَ لَہُ : النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا فَعَلَ أَسِیرُک ؟ فَقَالَ : أَخَذْتہَا فَقَالَتْ : إنِّی لاَ أَعُودُ ، فَأَرْسَلْتہَا ، فَقَالَ : إِنَّہَا عَائِدَۃٌ ، فَأَخَذْتہَا مَرَّتَیْنِ، أَوْ ثَلاثًا کُلَّ ذَلِکَ تَقُولُ: لاَ أَعُودُ، وَیَجِیئُ إِلَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَقُولُ: مَا فَعَلَ أَسِیرُک؟ فَیَقُولُ : أَخَذْتہَا فَتَقُولُ : لاَ أَعُودُ ، فَیَقُولُ : إِنَّہَا عَائِدَۃٌ فَأَخَذْتہَا فَقَالَتْ : أَرْسِلْنِی وَأُعَلِّمُک شَیْئًا تَقُولُہُ لاَ یَقْرَبُک شَیْئٌ، آیَۃَ الْکُرْسِی، فَأَتَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ: صَدَقَتْ وَہِیَ کَذُوبٌ۔ (ترمذی ۲۸۸۰۔ احمد ۴۲۳)
(٣٠٣٦٢) حضرت ابو ایوب فرماتے ہیں کہ میں چبوترے میں ہوتا تو ایک شکل بدلنے والا جن میرے پاس آتا تھا، پس میں نے اس بات کی شکایت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تو اس کو دیکھے تو یوں کہہ : اللہ کے نام کے ساتھ : تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جواب دو ۔ آپ فرماتے ہیں : جب وہ آیا۔ پس میں نے یہ کلمات کہے اور اس کو پکڑ لیا۔ تو وہ مجھے کہنے لگا : یقیناً میں دوبارہ نہیں آؤں گا ۔ تو میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تمہارے قیدی کا کیا بنا ؟ تو آپ نے عرض کیا : میں نے اس کو پکڑا ۔ تو وہ کہنے لگا : میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔ پھر میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک وہ دوبارہ واپس آئے گا۔ آپ فرماتے ہیں : میں نے اس کو دو یا تین مرتبہ پکڑا۔ وہ ہر مرتبہ کہتا : میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔ اور آپ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاتے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے : تمہارے قیدی کا کیا بنا ؟ تو آپ فرماتے : میں نے اس کو پکڑا تو وہ کہنے لگا : میں دوبارہ نہیں آؤں گا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے : بیشک وہ دوبارہ آئے گا۔ آپ نے فرماتے ہیں ! پھر میں نے اس کو پکڑا تو وہ کہنے لگا : تم مجھے چھوڑ دو اور میں تمہیں ایسی چیز سکھاؤں گا جب تم اسے پڑھو گے تو کوئی چیز بھی تمہارے قریب نہیں آئے گی، وہ آیت الکرسی ہے۔ پس آپ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کی خبر دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس نے سچ بات کی حالانکہ ہے وہ جھوٹا۔