(۳۰۳۷۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ جُرَیْجٍ فَذَکَرَ عَنْ عَطَائٍ ، أَنَّ رَجُلاً أَہَلَّ ہِلالاً بِفَلاۃٍ مِنَ الأَرْضِ ، قَالَ : فَسَمِعَ قَائِلاً یَقُولُ : اللَّہُمَّ أَہِلَّہُ عَلَیْنَا بِالأَمْنِ وَالإِیمَانِ وَالسَّلامَۃِ وَالإِسْلامِ وَالْہُدَی وَالْمَغْفِرَۃِ وَالتَّوْفِیقِ لِمَا تَرْضَی وَالْحِفْظِ مِمَّا تَسْخَطُ ، رَبِّی وَرَبُّک اللَّہُ ، قَالَ : فَلَمْ یُتِمَّہُنَّ حَتَّی حَفِظْتہنَّ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا۔
(٣٠٣٧٠) حضرت حسین بن علی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن جریج سے سوال کیا (نئے چاند کے متعلق) تو انھوں نے حضرت عطاء کے حوالہ سے نقل کیا : کہ بیشک ایک آدمی نے بنجر زمین میں نیا چاند دیکھا۔ اس نے بیان کیا کہ میں نے کسی کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا : اے اللہ ! تو اس چاند کو ہم پر امن اور ایمان کے ساتھ، اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ، اور ہدایت اور مغفرت کے ساتھ، اور ہر اس عمل کی توفیق کے ساتھ نکال جو تجھے پسند ہو، اور ہر اس عمل سے حفاظت کے ساتھ نکال جس سے تو ناراض ہوتا ہو۔ اے چاند تیرا اور میرا دونوں کا پروردگار اللہ ہے۔ وہ آدمی کہتا ہے : وہ مسلسل یہ کلمات پڑھتا رہا یہاں تک کہ میں نے ان کو یاد کرلیا : اور میں نے کسی کو بھی وہاں نہیں دیکھا۔