(۳۰۳۷۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَصَبْغُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلائِ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ، قَالَ : لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثَوْبًا جَدِیدًا فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَسَانِی مَا أُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی وَأَتَجَمَّلُ بِہِ فِی حَیَاتِی ثُمَّ قَالَ سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِیدًا فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَسَانِی مَا أُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی وَأَتَجَمَّلُ بِہِ فِی حَیَاتِی ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَی الثَّوْبِ الَّذِی أَخْلَقَ ، أَوْ قَالَ : أَلْقَی ، فَتَصَدَّقَ بِہِ کَانَ فِی کَنَفِ اللہِ وَفِی حِفْظِ اللہِ وَفِی سِتْرِ اللہِ حَیًّا وَمَیِّتًا قَالَہَا ثَلاثًا۔
(٣٠٣٧٢) حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے نیا کپڑا پہنا تو یہ دعا پڑھی : شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے وہ کپڑے پہنائے جس سے میں اپنا ستر ڈھانکتا ہوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کرتا ہوں۔ پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص نیا کپڑا پہن کر یہ دعا پڑھے : شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے وہ کپڑے پہنائے جن سے میں اپنا ستر ڈھانکتا ہوں ، اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کرتا ہوں۔ اور پھر وہ پرانے کپڑوں کو جس کو اس نے پھاڑ دیا تھا یا فرمایا؛ جسے رکھ دیا صدقہ کر دے تو وہ زندگی میں اور مرنے کے بعد خدا کی حفاظت میں اور حمایت میں اور خدا کے چھپانے میں رہے گا۔ آپ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔