(۳۰۴۱۷) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَن عبد العزیز بن رُفَیْعٍ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، قَالَ : لُدِغَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا زِلْت الْبَارِحَۃَ سَاہِرًا مِنْ لَدْغَۃِ عَقْرَبٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمَا إنَّک لَوْ قُلْتَ حِینَ أَمْسَیْت أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّۃِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ مَا ضَرَّک عَقْرَبٌ حَتَّی تُصْبِحَ ، قَالَ أَبُو صَالِحٍ : فَعَلَّمْتہَا ابْنَتِی وَابْنِی فَلَدَغَتْہُمَا فَلَمْ یَضُرَّہُمَا بِشَیْئٍ۔ (نسائی ۱۰۴۳۳)
(٣٠٤١٧) حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا۔ جب صبح ہوئی تو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! میں ساری رات بچھو کے ڈسنے کی وجہ سے بیدار رہا ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لیتے ، میں پناہ لیتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ اس کی مخلوق کے شر سے، تو صبح ہونے تک بچھو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔ ابو صالح فرماتے ہیں ! پس میں نے یہ کلمات اپنے بیٹے اور بیٹی کو سکھا دیے، پھر ان دونوں کو بچھو نے ڈنک مارا۔ اور ان کو کچھ تکلیف بھی نہیں پہنچی۔