(۳۰۴۳۴) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَن سَعِیدِ بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : لَحِقَنِی نَافِعُ بْنُ جُبَیْرٍ حِینَ انْصَرَفْت مِنَ الْمَغْرِبِ ، فَقُلْتُ : مَا شَأْنُکَ ؟ فَقَالَ : إذَا مَرَرْت عَلَی قَبْرِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْ : السَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَحْمَۃُ اللہِ ، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ یَقُولُ : لاَ صُحْبَۃَ ، فَإِذَا دَخَلْتُ عَلَی أَہْلِکَ فَقُلْ : السَّلامُ عَلَیْکُمْ ، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ یَقُولُ : لاَ مَبِیتَ ، فَإِذَا أُتِیتَ بِعَشَائِکَ فَقُلْ : بِسْمِ اللہِ ، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ یُوَلِّی خَاسِئًا یَقُولُ لأَصْحَابِہِ : لاَ مَبِیتَ ، وَلا عَشَائَ۔
(٣٠٤٣٤) حضرت سعید بن ابی سعید فرماتے ہیں کہ جب میں مغرب کی نماز سے فارغ ہوا تو حضرت نافع بن جبیر مجھ سے ملے : پس میں نے کہا : آپ کا کیا حال ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : جب تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر سے گزرے تو یوں کہہ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو۔ بیشک شیطان کہے گا : تمہارے لیے کوئی ساتھ نہیں۔ پس جب تو اپنے گھر والوں پر داخل ہو تو یوں کہہ : تم پر سلامتی ہو۔ تو بیشک شیطان کہے گا ، تمہارے لیے کوئی رات رہنے کی جگہ نہیں، پھر جب تیرے سامنے کھانا لایا جائے تو یوں کہہ : اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں، یقیناً شیطان ذلیل و رسوا ہو کر بھاگ جائے گا اور اپنے ساتھیوں کو یوں کہے گا : نہیں تمہارے لیے رات رہنے کے لیے کوئی جگہ اور نہ ہی کچھ کھانے کے لیے۔