(۳۰۴۶۶) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنِ الْعَلائِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : إذَا وَضْعت الْمَیِّتُ فِی قَبْرِہِ فَلا تَقُلْ : بِسْمِ اللہِ ، وَلَکِنْ قُلْ : فِی سَبِیلِ اللہِ ، وَعَلَی مِلَّۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَعَلَی مِلَّۃِ إبْرَاہِیمَ حَنِیفًا مسلما ، وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ، اللَّہُمَّ ثَبِّتْہُ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الآخِرَۃِ ، اللَّہُمَّ اجْعَلْہُ فِی خَیْرٍ مِمَّا کَانَ فِیہِ ، اللَّہُمَّ لاَ تَحْرِمْنَا أَجْرَہُ ، وَلا تَفْتِنَّا بَعْدَہُ ، قَالَ : وَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فِی صَاحِبِ الْقَبْرِ : {یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الآخِرَۃِ}۔
(٣٠٤٦٦) حضرت علاء بن المسیب اپنے والد کے واسطہ سے بیان فرماتے ہیں کہ جب تم میت کو قبر میں اتارو تو یوں مت کہو، اللہ کے نام کے ساتھ، بلکہ اس طرح کہو : اللہ کے راستہ میں اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقہ پر، اور حضرت ابراہیم جو کہ سچے مسلمان تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے ان کے طریقہ پر، اے اللہ ! تو اس کو آخرت میں حق بات کے ذریعہ ثابت قدمی عطا فرما، اے اللہ ! جس حال میں یہ تھا اس سے بہتر حال میں اس کو کر دے، اے اللہ ! ہمیں اس کے اجر سے محروم مت فرما، اور ہمیں اس کے بعد آزمائش میں مت ڈال۔ اور فرمایا کہ یہ آیت قبر والے کے بارے میں اتری ہے : اللہ اہل ایمان کو دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں قول حق (کی برکت) سے ثبات عطا فرماتا ہے۔