(۳۰۵۵۲) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبْجَرَ ، عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَن قَیْسِ بْنِ سَکَنٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ: تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّہُ یُکْتَبُ بِکُلِّ حَرْفٍ مِنْہُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَیُکَفَّرُ بِہِ عَشْرُ سَیِّئَاتٍ ، أَمَا إنِّی لاَ أَقُولُ: (الم) وَلَکِنْ أَقُولُ: أَلِفٌ عَشْرٌ وَلامٌ عَشْرٌ وَمِیمٌ عَشْرٌ۔ (حاکم ۵۵۵)
(٣٠٥٥٢) حضرت قیس بن سکن فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا : قرآن کو سیکھو۔ اس لیے کہ قرآن کے ایک حرف پڑھنے کے بدلے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دس گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے۔ باقی میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے ، لیکن یوں کہتا ہوں ! الف کے بدلہ دس نیکیاں ہیں، اور لام کے بدلہ دس نیکیاں ہیں ، اور میم کے بدلہ دس نیکیاں ہیں۔