(۳۰۶۲۳) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ الْجَرِیرِیِّ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی فِرَاسٍ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: قَدْ أَتَی عَلَیَّ زَمَانٌ وَأَنَا أَحْسِبُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ یُرِیدُ بِہِ اللہ ، فَقَدْ خُیِّلَ لِی الآنَ بِأَخَرِۃٍ أَنِّی أَرَی قَوْمًا قَدْ قَرَؤُوہُ یُرِیدُونَ بِہِ النَّاسَ ، فَأَرِیدُوا اللَّہَ بِقِرَائَتِکُمْ ،وَأَرِیدُوا اللَّہَ بِأَعْمَالِکُمْ۔
(٣٠٦٢٣) حضرت ابو فراس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : مجھ پر ایک زمانہ گزرا ہے کہ میں نے گمان کیا کہ ایک شخص نے قرآن پڑھا اللہ کی رضا مندی کے لیے تحقیق مجھے ابھی خیال آیا اخیر میں میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جنہوں نے قرآن پڑھا اور اس کے ذریعہ لوگوں کا ارادہ کیا۔ پس تم لوگ اپنے پڑھنے کے ذریعہ اللہ کو راضی کرو۔ اور اپنے اعمال کے ذریعے اللہ کو راضی کرو۔