(۳۰۶۲۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَن حَمْزَۃَ الزَّیَّاتِ ، عَنْ أَبِی الْمُخْتَارِ الطَّائِیِّ ، عَنِ ابْنِ أَخِی الْحَارِثِ الأَعْوَرِ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: کِتَابُ اللہِ فِیہِ خَبَرُ مَا قَبْلَکُمْ وَنَبَأُ مَا بَعْدَکُمْ وَحُکْمُ مَا بَیْنَکُمْ ، ہُوَ الْفَصْلُ لَیْسَ بِالْہَزْلِ ، ہُوَ الَّذِی لاَ تَزِیغُ بِہِ الأَہْوَائُ ، وَلا تَشْبَعُ مِنْہُ الْعُلَمَائُ ، وَلا یَخْلَقُ عَن کَثْرَۃِ رَدٍّ ، وَلا تَنْقَضِی عَجَائِبُہُ ، ہُوَ الَّذِی مَنْ تَرَکَہُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَہُ اللَّہُ ، وَمَنِ ابْتَغَی الْہُدَی فِی غَیْرِہِ أَضَلَّہُ اللَّہُ ، ہُوَ حَبْلُ اللہِ الْمَتِینُ ،وَہُوَ الذِّکْرُ الْحَکِیمُ ،وَہُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ ، ہُوَ الَّذِی مَنْ عَمِلَ بِہِ أُجِرَ ، وَمَنْ حَکَمَ بِہِ عَدَلَ ، وَمَنْ دَعَا إلَیْہِ دعا إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ، خُذْہَا إلَیْک یَا أَعْوَرُ۔ (ترمذی ۲۹۰۶۔ احمد ۹۱)
(٣٠٦٢٩) حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ! کتاب اللہ میں تم سے پہلے لوگوں کی باتیں ہیں اور تم سے بعد والے لوگوں کی خبریں ہیں، اور تمہارے درمیان والے لوگوں کے لیے احکام ہیں۔ یہ حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہے کوئی مذاق کی بات نہیں۔ اس کی وجہ سے نفس ٹیڑھا نہیں ہوتا۔ اور علماء کبھی اس سے سیر نہیں ہوسکتے اور بار بار پڑھے جانے سے یہ پرانا نہیں ہوتا۔ اور اس کے معانی کے اسرار و عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ جو کوئی اس کو چھوڑ دیتا ہے بےرحمی کی وجہ سے تو خدا اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے۔ اور جو کوئی اس کے علاوہ کسی اور چیز میں ہدایت کو تلاش کرتا ہے تو اللہ اسے گمراہ کردیتا ہے۔ یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے۔ اور یہ نعمت اور حکمت سے بھرپور ہے۔ اور یہ سیدھا راستہ ہے۔ جو کوئی اس پر عمل کرتا ہے وہ اجر پاتا ہے، اور جو اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے وہ انصاف کرتا ہے۔ اور جو شخص اس کی طرف بلاتا ہے وہ سیدھے راستے کی طرف بلاتا ہے۔ اے اعور اس کو مضبوطی سے پکڑ لو۔