(۳۰۶۳۱) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ بَجِیلَۃَ ، قَالَ: خَرَجَ جُنْدَبٌ الْبَجَلِیُّ فِی سَفَرٍ لَہُ ، قَالَ: فَخَرَجَ مَعَہُ نَاسٌ مِنْ قَوْمِہِ حَتَّی إذَا کَانُوا بِالْمَکَانِ الَّذِی یُوَدِّعُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا ، قَالَ: أَیْ قَوْمِ ، عَلَیْکُمْ بِتَقْوَی اللہِ ، عَلَیْکُمْ بِہَذَا الْقُرْآنِ فَالْزَمُوہُ عَلَی مَا کَانَ مِنْ جَہْدٍ وَفَاقَۃٍ ، فَإِنَّہُ نُورٌ بِاللَّیْلِ الْمُظْلِمِ وَہُدًی بِالنَّہَارِ۔
(٣٠٦٣١) قبیلہ بجیلہ کے ایک شخص فرماتے ہیں کہ حضرت جندب بَجَلی ایک سفر میں تشریف لے گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ ان کی قوم کے بھی کچھ لوگ ان کے ساتھ تھے۔ یہاں تک کہ وہ ایسی جگہ میں پہنچے کہ بعض لوگ بعض کو الوداع کہنے لگے۔ آپ نے فرمایا : اے لوگو ! اللہ سے ڈرنے کو لازم پکڑ لو۔ یہ قرآن لازم ہے تم پر کہ اس کو لازم پکڑو۔ وہ شخص جو تکلیف اور فاقہ میں ہے یہ قرآن اس کے لیے اندھیری رات میں روشنی کا ذریعہ ہے اور عین ہدایت کا ذریعہ ہے۔