(۳۰۶۳۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَن زِیَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ أَبِی إیَاسٍ ، عَنْ أَبِی کِنَانَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، أَنَّہُ قَالَ: إنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ کَائِنٌ لَکُمْ ذِکْرًا أو کَائِنٌ لَکُمْ أَجْرًا ، أَوْ کَائِنٌ عَلَیْکُمْ وِزْرًا ،فَاتَّبِعُوا الْقُرْآنَ ، وَلا یَتَّبِعْکُمُ الْقُرْآنُ ،فَإِنَّہُ مَنْ یَتَّبِعِ الْقُرْآنَ یَہْبِطْ بِہِ عَلَی رِیَاضِ الْجَنَّۃِ ، وَمَنْ یَتَّبِعْہُ الْقُرْآنُ یَزُخُّ فِی قَفَاہُ فَیَقْذِفُہُ فِی جَہَنَّمَ۔
(٣٠٦٣٦) حضرت ابو کنانہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے ارشاد فرمایا : بیشک یہ قرآن تمہارے لیے نصیحت ہے یا تمہارے لیے باعث اجر ہے یا تم پر بوجھ ہے، پس تم قرآن کی پیروی کرو اور قرآن تمہارے پیچھے نہ لگے۔ اس لیے کہ جو قرآن کی پیروی کرتا ہے تو وہ اس کی وجہ سے جنت کے باغات میں داخل ہوجاتا ہے، اور جس شخص کے پیچھے قرآن لگتا ہے۔ تو وہ اسے گردن کے پچھلے حصہ سے دھکیلتا ہے اور اس کو جہنم میں پھینک دیتا ہے۔