(۳۰۶۴۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ عَبَّادٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ: الْبَیْتُ الَّذِی یُقْرَأُ فِیہِ الْقُرْآنُ تَحْضُرُہُ الْمَلائِکَۃُ وَتَخْرُجُ مِنْہُ الشَّیَاطِینُ وَیَتَّسِعُ بِأَہْلِہِ وَیَکْثُرُ خَیْرُہُ ، وَالْبَیْتُ الَّذِی لاَ یُقْرَأُ فِیہِ الْقُرْآنُ تَحْضُرُہُ الشَّیَاطِینُ ، وَتَخْرُجُ مِنْہُ الْمَلائِکَۃُ ، وَیَضِیقُ بِأَہْلِہِ وَیَقِلُّ خَیْرُہُ۔
(٣٠٦٤٦) حضرت عباد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین نے ارشاد فرمایا : جس گھر میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے فرشتے وہاں حاضر ہوتے ہیں اور شیاطین اس گھر سے نکل جاتے ہیں۔ اور اس کے گھر والوں میں کشادگی ہوتی اور خیر کی کثرت ہوجاتی ہے، اور جس گھر میں قرآن کی تلاوت نہیں کی جاتی، شیاطین وہاں موجود ہوتے ہیں اور فرشتے اس گھر سے نکل جاتے ہیں اور گھر والوں میں تنگی ہوتی ہے اور خیر کی قلت ہوتی ہے۔