(۳۰۶۶۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ: کَانَ مُجَاہِدٌ ، وَعَبْدَۃُ بْنُ أَبِی لُبَابَۃَ وَنَاسٌ یَعْرِضُونَ الْمَصَاحِفَ ، فَلَمَّا کَانَ الْیَوْمُ الَّذِی أَرَادُوا أَنْ یَخْتِمُوا أَرْسَلُوا إلَیَّ وَإِلَی سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ فَقَالُوا: إنَّا کُنَّا نَعْرِضُ الْمَصَاحِفَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَخْتِمَ الْیَوْمَ فَأَحْبَبْنَا أَنْ تَشْہَدُونَا ، إِنَّہُ کَانَ یُقَالُ: إذَا خُتِمَ الْقُرْآنُ نَزَلَتِ الرَّحْمَۃُ عِنْدَ خَاتِمَتِہِ ، أَوْ حَضَرَتِ الرَّحْمَۃُ عِنْدَ خَاتِمَتِہِ۔
(٣٠٦٦٣) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد اور حضرت عبدہ بن ابو لبابہ اور لوگ قرآن پڑھا کرتے تھے۔ پس جس دن وہ لوگ قرآن کو مکمل کرنے کا ارادہ کرتے تو میری طرف اور حضرت سلمہ بن کھیل کی طرف قاصد بھیج کر ہمیں بلاتے، اور فرماتے ! ہم نے قرآن پڑھے ہیں پس ہمارا آج ختم کرنے کا ارادہ ہے ہم چاہتے ہیں کہ آپ لوگ بھی ہمارے پاس حاضر ہوں۔ اس لیے کہ کہا جاتا ہے۔ جب قرآن ختم کیا جاتا ہے تو اس کے ختم ہونے کے وقت رحمت اترتی ہے، یا فرمایا؛ اس کے ختم ہونے کے وقت رحمت حاضر ہوتی ہے۔