(۳۰۷۱۲) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَن زَائِدَۃَ ، عَن مَنْصُورٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ: لَوْ أَنَّ رَجُلاً بَاتَ یَحْمِلُ عَلَی الْجِیَادِ فِی سَبِیلِ اللہِ وَبَاتَ رَجُلٌ یَتْلُو کِتَابَ اللہِ لَکَانَ ذَاکِرُ اللہِ أَفْضَلَہُمَا قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرو: لَوْ بَاتَ رَجُلٌ یُنْفِقُ دِینَارًا دِینَارًا وَدِرْہَمًا دِرْہَمًا وَیَحْمِلُ عَلَی الْجِیَادِ فِی سَبِیلِ اللہِ حَتَّی یُصْبِحَ مُتَقَبَّلاً مِنْہُ، وَبِتُّ أَتْلُو کِتَابَ اللہِ حَتَّی أُصْبِحَ مُتَقَبَّلاً مِنِّی لَمْ أُحِبَّ ، أَنَّ لِی عَمَلَہُ بِعَمَلِی۔
(٣٠٧١٢) حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : اگر ایک آدمی رات گزارے اللہ کے راستہ میں گھوڑے پر سوار ہو کر اور ایک آدمی رات گزارتا ہے کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہوئے تو ان دونوں میں سے افضل اللہ کا ذکر کرنے والا ہوگا۔
راوی کہتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمرو نے بھی فرمایا : اگر کوئی شخص رات گزارے اس حال میں کہ وہ اتنے اور اتنے دینار خرچ کرے اور اتنے اور اتنے درھم خرچ کرے، اور وہ اللہ کے راستہ میں گھوڑے پر سوار ہو یہاں تک کہ صبح کرے اس حال میں کہ اس کا یہ عمل قبول کرلیا گاو ہو۔ اور میں رات گزاروں کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہوئے یہاں تک کہ صبح کروں اس حال میں کہ میرے اس عمل کو قبول کرلیا گیا ہو۔ میں پسند نہیں کرتا کہ مجھے اپنے عمل کے بدلے اس کے عمل کا ثواب مل جائے۔