(۳۰۷۴۷) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَن حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ جِبْرِیلَ ، قَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اقْرَإِ الْقُرْآنَ عَلَی حَرْفٍ ، فَقَالَ لَہُ مِیکَائِیلُ: اسْتَزِدْہُ ، فَقَالَ: عَلَی حَرْفَیْنِ ، ثُمَّ قَالَ: اسْتَزِدْہُ ، حَتَّی بَلَغَ سَبْعَۃَ أَحْرُفٍ ، کُلُّہَا شَافٍ کَافٍ کَقَوْلِکَ: ہَلُمَّ وَتَعَالَ ، مَا لَمْ یَخْتِمْ آیَۃَ رَحْمَۃٍ بِآیَۃِ عَذَابٍ ، أَوْ آیَۃَ عَذَابٍ بِرَحْمَۃٍ۔ (احمد ۴۱)
(٣٠٧٤٧) حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : قرآن کو ایک حرف پر پڑھیے، تو حضرت میکائیل نے ان سے کہا : اس میں اضافہ کردو، تو حضرت جبرائیل نے فرمایا : دو حرفوں پر پڑھیں ! پھر میکائیل نے کہا : اس میں اضافہ کردو، یہاں تک کہ وہ سات حروف تک پہنچ گئے۔ جن میں سے ہر ایک شافی کافی ہے۔ جیسا کہ تمہارا کہنا۔ ھلم اور تعال ، دونوں کا ایک معنی ہے، آؤ۔ جب تک وہ رحمت کی آیت کو عذاب کی آیت کے ساتھ مکمل نہ کرے اور عذاب کی آیت کو رحمت کی آیت کے ساتھ مکمل نہ کرے۔