(۳۰۸۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَن شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ: إنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ الَّذِی بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ یُوشِکُ أَنْ یُنْزَعَ مِنْکُمْ ، قَالَ: قُلْتُ: کَیْفَ یُنْزَعُ مِنَّا وَقَدْ أثْبَتَہُ اللَّہُ فِی قُلُوبِنَا وَأَثْبَتْنَاہُ فِی مَصَاحِفِنَا قَالَ: یُسْرَی عَلَیْہِ فِی لَیْلَۃٍ وَاحِدَۃٍ فَیَنْتزِعُ مَا فِی الْقُلُوبِ وَیَذْہَبُ مَا فِی الْمَصَاحِفِ وَیُصْبِحُ النَّاسُ مِنْہُ فُقَرَائَ ، ثُمَّ قَرَأَ {وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِی أَوْحَیْنَا إلَیْک} ۔ (عبدالرزاق ۵۹۸۱)
(٣٠٨١٩) حضرت شداد بن معقل فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ یہ قرآن جو تمہارے سینوں میں محفوظ ہے۔ قریب ہے کہ یہ تم سے چھین لیا جائے گا۔ راوی فرماتے ہیں ! میں نے عرض کیا : کیسے ہم سے اس کو چھین لیا جائے گا حالانکہ ہم نے اس کو اپنے دلوں میں محفوظ کیا ہے اور اپنے صحیفوں میں اس کو ضبط کیا ہے ؟ ! آپ نے فرمایا : پس اس پر ایک رات ایسی گزرے گی کہ جو کچھ دلوں میں محفوظ ہوگا اس کو چھین لیا جائے گا اور جو کچھ مصاحف میں ضبط ہوگا اے مٹا دیا جائے گا۔ اور لوگ صبح کریں گے اس حال میں کہ وہ اس سے خالی ہوں گے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : اور اگر ہم چاہیں تو چھین لے جائیں وہ سب جو ہم نے وحی کیا ہے تمہاری طرف۔