(۳۰۹۳۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَن ہَارُونَ بْنِ عَنْتَرَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ، قَالَ: ذِکْرُ اللہِ أکبر ، وَمَا جَلَسَ قَوْمٌ فِی بَیْتٍ یَتَعَاطَوْنَ فِیہِ کِتَابَ اللہِ فِیمَا بَیْنَہُمْ وَیَتَدَارَسُونَہُ إِلاَّ أَظَلَّتْہُمُ الْمَلائِکَۃُ بِأَجْنِحَتِہَا ، وَکَانُوا أَضْیَافَ اللہِ مَا دَامُوا فِیہِ حَتَّی یُفِیضُوا فِی حَدِیثٍ غَیْرِہِ۔ (دارمی ۳۵۶)
(٣٠٩٣٩) حضرت عنترہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس سے سوال کیا : کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کا ذکر کرنا بہت بڑا عمل ہے۔ اور کوئی قوم کسی گھر میں بیٹھ کر کتاب اللہ کے پڑھنے پڑھانے میں مشغول نہیں ہوتی اور اس کا دور نہیں کرتی مگر یہ کہ ملائکہ ان پر اپنے پروں سے سایہ کرتے ہیں اور وہ جب تک اس جگہ میں ہوتے ہیں وہ اللہ کے مہمان ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوجائیں۔