(۳۰۹۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ ہِلالِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ ، قَالَ: کَانَتْ لِی جَارِیَۃٌ تَرْعَی غَنَمًا لِی فِی قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِیَّۃ ، فَاطَّلَعْتہَا ذَاتَ یَوْمٍ وَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَہَبَ بِشَاۃٍ مِنْ غَنَمِہَا ، قَالَ: وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِی آدَمَ آسَفُ کَمَا یَأْسَفُونَ ، لَکِنِّی صَکَکْتہَا صَکَّۃً فَأَتَیْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَظَّمَ ذَلِکَ عَلَیَّ ، فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللہِ ، أَفَلا أُعْتِقُہَا قَالَ: ائْتِنِی بِہَا ، فَقَالَ لَہَا: أَیْنَ اللَّہُ ؟ قَالَتْ فِی السَّمَائِ ، قَالَ: مَنْ أَنَا ؟ قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللہِ ، قَالَ: أَعْتِقْہَا ، فَإِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ۔ (مسلم ۳۳۔ ابوداؤد ۹۲۷)
(٣٠٩٧٩) حضرت عطاء بن یسار (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن الحکم السلمی (رض) نے ارشاد فرمایا : میری ایک باندی تھی جو احد اور جوانیہ مقام پر میری بکریاں چراتی تھی۔ پس ایک دن میں اس کے پاس گیا تو اچانک ایک بھیڑیا ریوڑ میں سے ایک بکری لے گیا۔ آپ (رض) نے کہا : میں آدم کے بیٹوں میں سے ایک آدمی ہوں میں نے افسوس کیا جیسا کہ وہ افسوس کرتے ہیں۔ لیکن میں نے اس کے چہرے پر زور سے تھپڑ دے مارا۔ پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، مجھے یہ بہت ناگوار گزرا تھا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول 5! کیا میں اسے آزاد کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے میرے پاس لاؤ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : اللہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا : آسمان میں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : میں کون ہوں ؟ اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو آزاد کردو بیشک یہ مومن ہے۔