(۳۱۰۰۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مَیْسَرَۃَ وَالْمُغِیرَۃِ بْنِ شِبْلٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ الأَحْمَسِیِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : إنَّ مَثَلَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ کَمَثَلِ سِہَامِ الْغَنِیمَۃِ ، فَمَنْ یَضْرِبُ فِیہَا بِخَمْسَۃٍ خَیْرٌ مِمَّنْ یَضْرِبُ فِیہَا بِأَرْبَعَۃٍ وَمَنْ یَضْرِبُ فِیہَا بِأَرْبَعَۃٍ خَیْرٌ مِمَّنْ یَضْرِبُ فِیہَا بِثَلاثَۃٍ ، وَمَنْ یَضْرِبُ فِیہَا بِثَلاثَۃٍ خَیْرٌ مِمَّنْ یَضْرِبُ فِیہَا بِسَہْمَیْنِ ، وَمَنْ یَضْرِبُ فِیہَا بِسَہْمَیْنِ خَیْرٌ مِمَّنْ یَضْرِبُ فِیہَا بِسَہْمٍ ، وَمَا جَعَلَ اللَّہُ مَنْ لَہُ سَہْمٌ فِی الإسْلامِ کَمَنْ لاَ سَہْمَ لَہُ۔
(٣١٠٠٤) حضرت طارق بن شھاب الاحمسی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان (رض) نے فرمایا : بیشک پانچ نمازوں کی مثال غنیمت کے حصول کی سی ہے۔ پس جو شخص اس میں سے پانچ حصے لیتا ہے وہ بہتر ہے اس سے جو اس میں سے چار حصے لیتا ہے۔ اور جو شخص اس میں سے چار حصے لیتا ہے وہ بہتر ہے اس سے جو اس میں سے تین حصے لیتا ہے اور جو شخص اس میں سے تین حصے لیتا ہے وہ بہتر ہے اس سے جو اس میں سے دو حصے لیتا ہے اور جو شخص اس میں سے دو حصے لیتا ہے وہ بہتر ہے، اس سے جو ایک حصہ لیتا ہے۔ اور اللہ نہ بنائے اس شخص کو جس کا اسلام میں ایک حصہ ہو اس کی طرح جس کا کوئی حصہ نہیں۔