(۳۱۰۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : یُقَالُ لَہُ : سَلْ تُعْطَہُ ، یَعْنِی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَادْعُ تُجَبْ ، فَیَرْفَعُ رَأْسَہُ فَیَقُولُ : أُمَّتِی أُمَّتِی مَرَّتَیْنِ ، أَوْ ثَلاثًا فَقَالَ سَلْمَانُ یَشْفَعُ فِی کُلِّ مَنْ فِی قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّۃِ حِنْطَۃٍ مِنْ إیمَانٍ ، أَوْ مِثْقَالُ شَعِیرَۃٍ مِنْ إیمَانٍ ، أَوْ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِنْ إیمَانٍ ، قَالَ سَلْمَانُ : فَذَلِکُمُ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ۔
(٣١٠٢٦) حضرت ابو عثمان (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان (رض) نے ارشاد فرمایا : ان کو کہا جائے گا : مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا۔ یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو۔ شفاعت کرو ، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ دعا کرو قبول کی جائے گی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا سر اٹھائیں گے اور ارشاد فرمائیں گے دو یا تین مرتبہ ! میرے رب ! میری امت ، میری امت ! پھر حضرت سلمان (رض) نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شفاعت کریں گے ہر اس شخص کے بارے میں جس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو، یا فرمایا : کہ جو کے دانے کے برابر ایمان ہو، یا فرمایا : کہ رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو۔ حضرت سلمان (رض) نے فرمایا : یہ تمہارے لیے مقام محمود ہے۔