(۳۱۰۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : الْقُلُوبُ أَرْبَعَۃٌ : قَلْبٌ مُصَفَّحٌ ، فَذَلِکَ قَلْبُ الْمُنَافِقِ ، وَقَلْبٌ أَغْلَفُ ، فَذَلِکَ قَلْبُ الْکَافِرِ ، وَقَلْبٌ أَجْرَدُ ، کَأَنَّ فِیہِ سِرَاجًا یُزْہِرُ ، فَذَاکَ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ ، وَقَلْبٌ فِیہِ نِفَاقٌ وَإِیمَانٌ ، فَمَثَلُہُ کَمَثَلِ قُرْحَۃٍ یَمُدُّ بِہَا قَیْحٌ وَدَمٌ ، وَمَثَلُہُ کَمَثَلِ شَجَرَۃٍ یَسْقِیہَا مَائٌ خَبِیثٌ وَمَائٌ طَیِّبٌ ، فَأَیُّ مَائٍ غَلَبَ عَلَیْہَا غَلَبَ۔ (طبری ۴۰۶)
(٣١٠٤٣) حضرت ابو البختری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ (رض) نے ارشاد فرمایا : دل چار طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ دل جس میں کھوٹ ہے یہ منافق کا دل ہے۔ ایک وہ دل جو غلاف میں لپٹا ہوا ہے یہ کافر کا دل ہے۔ ایک وہ دل جو شفاف ہے اور اس سے روشنی جھلکتی ہے یہ مومن کا دل ہے۔ ایک وہ دل جس میں نفاق اور ایمان ہے۔ اس کی مثال اس پھوڑے کی سی ہے جس میں پیپ اور خون ہے۔ اس کی مثال اس درخت کی سی ہے جس کو صاف اور گندا پانی ملتا ہے جو پانی غالب آجائے اس میں اسی کا اثر ہوتا ہے۔