(۳۱۰۴۵) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو کَعْبٍ صَاحِبُ الْحَرِیرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لأمِّ سَلَمَۃَ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ مَا کَانَ أَکْثَرُ دُعَائِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا کَانَ عِنْدَکَ ، قَالَ : قُلْتُ : کَانَ أَکْثَرُ دُعَائِہِ : یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دِینِکَ ، قُلْتُ : یا رسول اللہ ، مَا أَکْثَرُ دُعَائِکَ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوب ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دِینِکَ قَالَ : یَا أُمَّ سَلَمَۃَ : إِنَّہُ لَیْسَ من آدَمِیٌّ إلاَّ وَقَلْبُہُ بَیْنَ إصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللہِ مَا شَائَ أَقَامَ ، وَمَا شَائَ أَزَاغَ۔
(٣١٠٤٥) حضرت شھر بن حوشب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ام المومنین ام سلمہ (رض) سے دریافت کیا : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے پاس ہوتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کثرت سے کون سی دعا کرتے تھے ؟ راوی کہتے ہیں : آپ نے ارشاد فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کثرت سے یہ دعا کرتے تھے : اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثبات عطا فرما۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اکثر یہ دعا ہی ہوتی ہے : اے دلوں کے پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثبات عطا فرما۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے ام سلمہ ! کوئی بھی شخص نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جسے چاہے سیدھا کردیتا ہے اور جسے چاہے ٹیڑھا کردیتا ہے۔