(۳۱۰۶۴) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ زُبَیْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: کَیْفَ أَصْبَحْت یَا حَارِثَ بْنَ مَالِکٍ ، قَالَ : أَصْبَحْت مُؤْمِنًا حَقًّا ، قَالَ : إنَّ لِکُلِّ قَوْلٍ حَقِیقَۃً فَمَا حَقِیقَۃُ ذَلِکَ ، قَالَ : أَصْبَحْت عَزَفَتْ نَفْسِی عَنِ الدُّنْیَا فَأَسْہَرْت لَیْلِی وَأَظْمَأْت نَہَارِی وَلکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی عَرْشِ رَبِّی قَدْ أُبْرِزَ لِلْحِسَابِ ، وَلکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی أَہْلِ الْجَنَّۃِ یَتَزَاوَرُونَ فِی الْجَنَّۃِ ، وَلکَأَنِّی أَسْمَعُ عُوَائَ أَہْلِ النَّارِ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ : عَبْدٌ نَوَّرَ الإِیمَانِ فِی قَلْبِہِ ، إذْ عَرَفْت فَالْزَمْ۔ (عبدالرزاق ۲۰۱۱۴۔ بزار ۳۲)
(٣١٠٦٤) حضرت زبید (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حارث بن مالک (رض) تم نے کس حال میں صبح کی ؟ آپ (رض) نے عرض کیا : میں نے سچا مومن ہونے کی حالت میں صبح کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یقیناً ہر بات کی ایک حقیقت ہوتی ہے، تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ (رض) نے عرض کیا ! میں نے اس حال میں صبح کی کہ میرے نفس نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کی، پس میں نے راتوں میں خود کو جگایا۔ اور دن میں خود کو پیاسا رکھا۔ گویا کہ میں اپنے رب کے عرش کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ حساب لینے کے لیے ظاہر ہوگیا۔ اور گویا کہ میں اہل جنت کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے ہیں اور گویا کہ میں اہل جہنم کی چیخ و پکار کی آواز سن رہا ہوں، راوی کہتے ہیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے ارشاد فرمایا : یہ ایسا بندہ ہے کہ ایمان نے اس کے دل میں نور کو بھر دیا ہے۔ اگر تو نے اس کو پہچان لیا تو پھر اس کو لازم پکڑو۔