hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 31067

.

ابن أبي شيبة

31067
Ibn Abi Shaybah
(۳۱۰۶۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ ، قَالَ: وَرَدْنَا الْمَدِینَۃِ، فَأَتَیْنَا عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ ، فَقُلْنَا : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إنَّا نُمْعِنُ فِی الأَرْضِ فَنَلْقَی قَوْمًا یَزْعُمُونَ أَنْ لاَ قَدَرَ ، فَقَالَ : مِنَ الْمُسْلِمِینَ مِمَّنْ یُصَلِّی إِلَی الْقِبْلَۃِ ، قُلْنَا نَعَمْ مِمَّنْ یُصَلِّی إِلَی الْقِبْلَۃِ ، قَالَ : فَغَضِبَ حتَّی وَدِدْت أَنِّی لَمْ أَکُنْ سَأَلْتُہُ ، ثُمَّ قَالَ : إذَا لَقِیت أُولَئِکَ فَأَخْبِرْہُمْ ، أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ مِنْہُمْ بَرِیئٌ وَأَنَّہُمْ مِنْہُ بُرَآئُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُک ، عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فقلت : أَجَلْ فَقَالَ : کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ رَجُلٌ جَیِّدُ الثِّیَابِ طَیِّبُ الرِّیحِ حَسَنُ الْوَجْہِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا الإسْلامُ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تُقِیمُ الصَّلاۃَ وَتُؤْتِی الزَّکَاۃَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ وَتَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ ، قَالَ : صَدَقْت ، فَمَا الإِیمَانُ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلائِکَۃِ وَالْکِتَابِ وَالنَّبِیُّینَ وَبِالْقَدَرِ کُلِّہِ خَیْرِہِ وَشَرِّہِ وَحُلْوِہِ وَمُرِّہِ ، قَالَ : صَدَقْت ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : عَلَیَّ بِالرَّجُلِ ، قَالَ : فَقُمْنَا بِأَجْمَعِنَا فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَیْہِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَذَا جِبْرِیلُ أَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ أَمْرَ دِینَکُمْ۔
(٣١٠٦٨) حضرت محارب بن دثار (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن بریدہ (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم مدینہ آئے تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا : اے ابو عبد الرحمن ! ہم اپنے شہروں سے بہت دور تھے ۔ تو ہماری چند ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں، آپ (رض) نے پوچھا : کیا وہ لوگ مسلمانوں میں سے ہیں ؟ اور قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے ہیں ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : پس آپ (رض) اتنے غضبناک ہوئے کہ میں نے چاہا کہ میں آپ (رض) سے سوال نہ کرتا۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا : جب تم ان لوگوں سے ملو تو ان کو بتلا دو کہ یقیناً عبداللہ بن عمر (رض) ان سے بری ہے، اور وہ لوگ مجھ سے بری ہیں، پھر فرمایا : اگر تم چاہو تو میں تمہارے سامنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث بیان کروں ؟ میں نے عرض کیا ! جی ہاں ! پھر آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے تھے۔ پس ایک آدمی آیا صاف ستھرے کپڑوں والا، اچھی خوشبو والا اور خوبصورت چہرے والا، کہنے لگا : اے اللہ کے رسول 5! اسلام کی حقیقت کیا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کہ تم نماز کی پابندی کرو، اور زکوۃ دو ، اور رمضان کے روزے رکھو۔ اور بیت اللہ کا حج کرو اور جنابت سے پاکی کا غسل کرو۔ اس شخص نے کہا ! آپ نے سچ فرمایا : ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کہ تو ایمان لائے اللہ پر ، اور آخرت کے دن پر، اور فرشتوں پر، اور کتاب پر، اور نبیوں پر اور تقدیر کے اچھے، بُرے ہونے پر اور اس کی مٹھاس اور کھٹاس پر۔ اس شخص نے کہا : آپ نے سچ فرمایا : پھر وہ شخص واپس چلا گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے جوتی دو ، آپ (رض) فرماتے ہیں ہم سب کھڑے ہوگئے۔ پس ہمیں اس پر قدرت نہ ہوئی، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارے دین کے معاملات سکھانے آئے تھے۔