(۳۱۰۸۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ وَکِیعِ بْنِ عُدُسٍ الْعُقَیْلِیِّ ، عَنْ عَمِّہِ أَبِی رَزِینٍ : أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : الرُّؤْیَا عَلَی رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعْبَرْ فَإِذَا عُبِرَتْ وَقَعَتْ۔
قَالَ : وَالرُّؤْیَا جُزْئٌ مِنْ سِتَّۃٍ وَأَرْبَعِینَ جُزْئًا مِنَ النُّبُوَّۃِ۔
قَالَ : وَأَحْسَبُہُ قَالَ : لاَ تَقُصَّہَا إلاَّ عَلَی وَادٍّ ، أَوْ ذِی رَأْیٍ۔ (احمد ۱۲۔ حاکم ۳۹۰)
(٣١٠٨٩) حضرت ابورزین (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ خواب کی جب تک تعبیر بیان نہ کی جائے، وہ پرندے کے پاؤں میں اٹکا ہوا ہوتا ہے، پھر جب اس کی تعبیر بیان کردی جاتی ہے تو وہ واقع ہوجاتا ہے۔
راوی فرماتے ہیں کہ خواب نبوت کے چھیالیس حصّوں میں سے ایک حصّہ ہے۔
راوی فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا کہ خواب کو دوست یا عقلمند آدمی کے علاوہ کسی شخص کے سامنے بیان نہ کرو۔