(۳۱۰۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ کَانَ یُفْتِی بِمِصْرٍ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ : {لَہُمُ الْبُشْرَی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا} قَالَ مَا سَأَلَنِی عنہا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عنہا ، فَقَالَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا سَأَلَنِی أَحَدٌ قَبْلَک : ہِیَ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ یَرَاہَا الْمُسْلِمُ ، أَوْ تُرَی لَہُ ، وَفِی الآخِرَۃِ الْجَنَّۃُ۔ (ترمذی ۳۱۰۶۔ احمد ۴۴۷)
(٣١٠٩٢) حضرت عطاء بن یسار (رض) ایک محدث سے روایت کرتے ہیں جو مصر میں فتویٰ کی خدمت سر انجام دیتے تھے، وہ محدث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو درداء (رض) سے اس آیت کی تفسیر پوچھی : { لَہُمُ الْبُشْرَی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا } فرمانے لگے کہ میں نے جب سے اس آیت کی تفسیر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھی ہے اس وقت سے لے کر اب تک کسی نے مجھ سے اس کی تفسیر نہیں پوچھی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی مجھ سے اس وقت فرمایا تھا تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس آیت کی تفسیر نہیں پوچھی، اس سے مراد وہ نیک خواب ہے جو مسلمان دیکھتا ہے یا اس کو دکھایا جاتا ہے، اور آخرت میں جس چیز کی خوشخبری ملے گی وہ جنت ہے۔