hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 31121

.

ابن أبي شيبة

31121
Ibn Abi Shaybah
(۳۱۱۲۲) حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : وَفَدْنَا مَعَ زِیَادٍ إلَی مُعَاوِیَۃَ فَمَا أُعْجِبَ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا ، قَالَ : فَقَالَ : یَا أَبَا بَکْرَۃَ ! حَدِّثْنا بِشَیْئٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: - وَکَانَتْ تُعْجِبُہُ الرُّؤْیَا الْحَسَنَۃُ یَسْأَلُ عنہا - فَسَمِعْتَہُ یَقُولُ : رَأَیْتُ کَأَنَّ مِیزَانًا أُنْزِلَ مِنَ السَّمَائِ فَوُزِنْت فِیہِ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ فَرَجَحْت بِأَبِی بَکْرٍ ، وَوُزِنَ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَکْرٍ ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَان فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِیزَانُ إلَی السَّمَائِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خِلاَفَۃٌ ونُبُوَّۃ، ثُمَّ یُؤْتِی اللَّہُ الْمُلْکَ مَنْ یَشَائُ، قَالَ: فَزُخَّ فِی أَقْفِیَتِنَا فَأُخْرِجْنَا۔ (ابوداؤد ۴۶۱۰۔ ترمذی ۲۲۸۷)
(٣١١٢٢) حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے فرمایا کہ ہم زیاد کے ساتھ ایک وفد کی شکل میں حضرت معاویہ (رض) کے پاس آئے ، وہ کسی وفد سے اتنے خوش نہیں ہوئے جتنا ہم سے خوش ہوئے، راوی فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : اے ابو بکرہ ! ہمیں کوئی ایسی بات بیان کیجئے جو آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو، انھوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ کو اچھے خواب پسند تھے جن کے بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا جاتا تھا، آپ فرما رہے تھے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو اتاری گئی، پس اس میں میرا اور ابوبکر کا وزن کیا گیا پس میں ابوبکر سے جھک گیا، پھر ابوبکر اور عمر کا وزن کیا گیا تو ابوبکر جھک گئے، پھر عمر اور عثمان کو تولا گیا تو عمر عثمان سے جھک گئے، پھر ترازو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ خلافت اور نبوت ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے حکومت عطا فرمائیں گے، حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ پھر ہمیں گدّی سے پکڑ کر نکال دیا گیا۔