(۳۱۱۲۷) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَہْدَلَۃَ ، عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ خَرَشَۃَ بْنِ الْحُرِّ ، قَالَ : قَدِمْت الْمَدِینَۃَ فَجَلَسْت إلَی مَشْیَخَۃٍ فِی الْمَسْجِدِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجَائَ شَیْخٌ مُتَوَکِّئٌ عَلَی عَصًا لَہُ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَنْظُرَ إلَی رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَلْیَنْظُرْ إلَی ہَذَا ، قَالَ : فَقَامَ خَلْفَ سَارِیَۃٍ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ فَقُمْت إلَیْہِ فَقُلْتُ لَہُ : قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ کَذَا وَکَذَا ، فَقَالَ : الْجَنَّۃُ لِلَّہِ یُدْخِلُہَا مَنْ یَشَائُ ، وَإِنِّی رَأَیْت عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رُؤْیَا : رَأَیْت کَأَنَّ رَجُلاً یَأْتِی ، فَقَالَ لِی : انْطَلِقْ فَذَہَبْت مَعَہُ فَسَلِکَ بِی فِی مَنْہَجٍ عَظِیمٍ ، فَعَرَضَت لِی طَرِیقٌ عَنْ یَسَارِی ، فَأَرَدْت أَنْ أَسْلُکَہَا ، فَقِیلَ : إنَّک لَسْت مِنْ أَہْلِہَا ، ثُمَّ عَرَضَتْ لِی طَرِیقٌ عَنْ یَمِینِی ، فَسَلِکْتہَا حَتَّی إذَا انْتَہَیْت إلَی جَبَلٍ زَلْق ، فَأَخَذَ بِیَدِی فَأَدْخَلَنِی فَإِذَا أَنَا عَلَی ذُرْوَتِہِ فَلَمْ أَتَقَارَّ وَلَمْ أَتَمَاسَک ، وَإِذَا عَمُودٌ مِنْ حَدِیدٍ فِی ذُرْوَتِہِ حَلْقَۃٌ مِنْ ذَہَبٍ ، فَأَخَذَ بِیَدِی فَدَحَانِی حَتَّی أَخَذْت بِالْعُرْوَۃِ
فَقَالَ : اسْتَمْسِکَ ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَضَرَبَ الْعَمُودَ بِرِجْلِہِ وَاسْتَمْسَکْت بِالْعُرْوَۃِ۔
فَقَصَصْتہَا عَلَی رَسُولِ اللہِ ، فَقَالَ : رَأَیْت خَیْرًا ، أَمَّا الْمَنْہَجُ الْعَظِیمُ : فَالْمَحْشَرُ ، وَأَمَّا الطَّرِیقُ الَّتِی عَرَضَتْ عَنْ یَسَارِکَ : فَطَرِیقُ أَہْلِ النَّارِ ، وَلَسْت مِنْ أَہْلِہَا ، وَأَمَّا الطَّرِیقُ الَّتِی عَرَضَتْ عَنْ یَمِینِکَ : فَطَرِیقُ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ، وَأَمَّا الْجَبَلُ الزَّلِقُ : فَمَنْزِلُ الشُّہَدَائِ ، وَأَمَّا الْعُرْوَۃُ الَّتِی اسْتَمْسَکْت بِہَا : فَعُرْوَۃُ الإسْلاَمِ ، فَاسْتَمْسِکْ بِہَا حَتَّی تَمُوتَ۔
قَالَ : فَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَکُونَ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ، قَالَ : فَإِذَا ہُوَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَلاَمٍ۔ (بخاری ۳۸۱۴۔ مسلم ۱۴۸)
(٣١١٢٧) حضرت خرشہ بن حرّ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا اور میں مسجد میں کچھ عمر رسیدہ لوگوں کے پاس بیٹھ گیا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ تھے، فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ لاٹھی ٹیکتے ہوئے تشریف لائے، لوگوں نے کہا جس کو خواہش ہو کہ کسی جنتی آدمی کو دیکھے وہ ان کو دیکھ لے، راوی فرماتے ہیں کہ وہ ایک ستون کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور دو رکعتیں پڑھیں، میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ بعض لوگ اس طرح کہہ رہے ہیں، انھوں نے جواب دیا کہ جنت میں تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے داخل فرمائیں گے لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایک خواب دیکھا تھا۔
میں نے دیکھا کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور مجھے کہا کہ چلیے، میں اس کے ساتھ چل دیا، وہ مجھے ایک بڑے راستہ کی طرف لے گیا ، میرے بائیں جانب ایک اور راستہ پھیل گیا، میں نے چاہا کہ اس راستے پر چلوں تو کہا گیا کہ تو اس راستے والوں میں سے نہیں ہے، پھر میرے دائیں جانب ایک راستہ پھیل گیا، میں اس راستے پر چل پڑا یہاں تک کہ میں ایک چکنے پہاڑ پر پہنچا ، اس آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے چڑھایا، یہاں تک کہ میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا لیکن میں ٹھہر نہیں پا رہا تھا اور میرے پاؤں نہیں جم رہے تھے، اس اثناء میں میں نے لوہے کا ایک ستون دیکھا جس کے بالائی حصّے پر سونے کا ایک دائرہ تھا، اس آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے دھکیلا یہاں تک کہ میں نے کڑے کو پکڑ لیا، اس نے کہا مضبوطی سے اس کو تھام لو، میں نے کہا ٹھیک ہے، اس نے ستون کو پاؤں سے ٹھوکر دی اور میں نے کڑے کو مضبوطی سے تھام لیا،
میں نے یہ خواب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیان کیا ، آپ نے فرمایا تم نے بھلائی کی چیز دیکھی ہے، بڑا راستہ تو میدانِ حشر ہے، اور وہ راستہ جو تمہارے بائیں جانب پھیلا وہ اہل جہنم کا راستہ ہے اور تم ان میں سے نہیں ہو، اور وہ راستہ جو تمہارے دائیں جانب پھیلا وہ اہل جنت کا راستہ ہے ، اور چکنا پہاڑ شہداء کا مقام ہے ، اور وہ کڑا جس کو تم نے تھاما تھا وہ اسلام کا کڑا ہے اس کو مضبوطی سے تھامے رکھو یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے، وہ بزرگ صحابی فرمانے لگے مجھے امید ہے کہ میں اہل جنت میں سے ہوں گا ، راوی فرماتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ وہ صحابی عبداللہ بن سلام (رض) ہیں۔