(۳۱۱۵۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِی صَغِیرَۃٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ ، أَنَّہَا قَتَلَتْ جَانًّا ، فَأُتِیَتْ فِیمَا یَرَی النَّائِمُ ، فَقِیلَ لَہَا : أَمَا وَاللہِ لَقَدْ قَتَلْتِ مُسْلِمًا ، قَالَتْ : فَلِمَ یَدْخُلْ عَلَیَّ أَزْوَاجُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقِیلَ لَہَا : مَا یَدْخُلُ عَلَیْک إلاَّ وَعَلَیْک ثِیَابُک ، فَأَصْبَحَتْ فَزِعَۃً وَأَمَرَتْ بِاثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا ، فَجعلَت فِی سَبِیلِ اللہِ۔
(٣١١٥٤) حضرت عائشہ بنت طلحہ (رض) حضرت عائشہ ام المؤمنین (رض) سے روایت کرتی ہیں کہ انھوں نے ایک سانپ کو قتل کردیا، چنانچہ ان سے خواب میں کہا گیا بخدا تم نے ایک مسلمان کو قتل کیا ہے، آپ نے فرمایا تو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے حجروں میں کیوں داخل ہوا تھا ؟ ان سے کہا گیا کہ وہ آپ کے پاس اسی وقت آتا ہے جب آپ اپنے کپڑوں میں ہوتی ہیں، چنانچہ آپ گھبرا کر اٹھیں اور بارہ ہزار اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا حکم فرمایا۔