(۳۱۱۵۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ وَأَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِیُّ : أَنَّ سَمُرَۃَ بْنَ جُنْدُبٍ قَالَ لأَبِی بَکْرٍ : رَأَیْت فِی الْمَنَامِ کَأَنِّی أَفْتِلُ شَرِیطًا وَأَضَعُہُ إلَی جَنْبِی وَنَقَدٌ یَأْکُلْنَہُ ، قَالَ : تَزَوَّجُ امْرَأَۃً ذَاتَ وَلَدٍ یَأْکُلُ کَسْبَک۔ قَالَ : وَرَأَیْت ثَوْرًا خَرَجَ مِنْ جُحْرٍ فَلَمْ یَسْتَطِعْ یَعُودُ فِیہِ ، قَالَ : ہَذِہِ الْعَظِیمَۃُ تَخْرُجُ مِنْ فِی الرَّجُلِ فَلاَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یَرُدَّہَا ، قَالَ : وَرَأَیْت کَأَنَّہُ قِیلَ : الدَّجَّالُ یَخْرُجُ ، فَجَعَلْتُ أَتَقَحَّمُ الْجُدُرَ ، فَالْتَفَتّ خَلْفِی فَفُرِجَتْ لِی الأَرْضُ فَدَخَلْتہَا ، قَالَ : تُصِیبُک قُحَمٌ فِی دِینِکَ ، وَالدَّجَّالُ عَلَی إِثْرِکَ قَرِیبًا۔
(٣١١٥٦) حضرت علی بن زید (رض) اور ابو عمران جونی (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں رسّی بٹ رہا ہوں اور میں نے رسّی بٹ کر اپنے پہلو میں رکھ دی، اور چھوٹی بھیڑیں اسے کھا رہی ہیں، حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا تم ایک لڑکے والی عورت سے شادی کرو گے جو تمہارا مال کھاجائے گی، انھوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک بیل کو دیکھا کہ ایک سوراخ سے نکلا لیکن پھر وہ اس کے اندر نہ جاسکا، حضرت ابوبکر (رض) نے جواب دیا کہ یہ بڑا بول ہے جو آدمی کے منہ سے نکلتا ہے لیکن وہ اس کو واپس لے جانے کی طاقت نہیں رکھتا، انھوں نے عرض کیا کہ میں نے یہ دیکھا کہ گویا کہا جا رہا ہے کہ دجال نکل رہا ہے ، میں دیواروں کے پیچھے چھپنے لگا، اچانک میں نے اپنے پیچھے دیکھا کہ میرے لیے زمین پھٹ گئی ہے، چنانچہ میں اس میں داخل ہوگیا، حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ تجھے تیرے دین میں مشکلات پیش آئیں گی اور دجال تیرے بعد عنقریب آجائے گا۔