(۳۱۱۷۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ مُجَمِّعٍ ، قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی عَلَی الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ لِجُلَسَائِہِ : إذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْظُرُوا إلَی رَجُلٍ یَسُبُّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عُثْمَانَ فَہَذَا عِنْدَکُمْ ، - یَعْنِی : عَبْدَ الرَّحْمَن - ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : مَعَاذَ اللہِ أَیُّہَا الأَمِیرُ أَنْ أَکُونَ أَسُبُّ عُثْمَانَ ، أَنَّہُ لَیَحْجُزنِی عَنْ ذَلِکَ ثَلاث آیَاتٌ فِی کِتَابِ اللہِ ، قَالَ اللَّہُ : {لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللہِ وَرِضْوَانًا وَیَنْصُرُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ أُولَئِکَ ہُمُ الصَّادِقُونَ} قَالَ : فَکَانَ عُثْمَان مِنْہُمْ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : {وَالَّذِینَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالإِیمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ} ، فَکَانَ أَبِی مِنْہُمْ : {وَالَّذِینَ جَاؤُوا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلاِِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالإِیمَانِ} فَکُنْت مِنْہُمْ ، قَالَ : صَدَقْت۔
(٣١١٧٩) حضرت مجمع (رض) سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن ابی لیلی (رض) حجّاج کے پاس تشریف لائے تو حجاج نے اپنے ہم نشینوں سے کہا کہ اگر تم چاہو کہ اس آدمی کو دیکھ لو جو حضرت امیر المؤمنین عثمان (رض) کو گالی دیتا ہے تو یہ عبد الرحمن تمہارے پاس ہیں ان کو دیکھ لو، حضرت عبد الرحمن (رض) نے فرمایا کہ اے امیر ! میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں حضرت عثمان (رض) کو برا بھلا کہوں، مجھے اس بات سے کتاب اللہ کی تین آیتیں روکتی ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللہِ وَرِضْوَانًا وَیَنْصُرُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ أُولَئِکَ ہُمَ الصَّادِقُونَ } (ان ہجرت کرنے والے فقراء کے لیے جن کو ان کے شہروں اور اموال سے بےدخل کردیا گیا، وہ تلاش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رضاء ، اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، وہی لوگ سچے ہیں) حضرت عثمان (رض) بھی ان لوگوں میں سے تھے، پھر آپ نے پڑھا { وَالَّذِینَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالإِیمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ( اور وہ لوگ جنہوں نے ان سے پہلے جگہ پکڑی گھر میں اور ایمان میں) میرے والد ان لوگوں میں سے تھے۔ { وَالَّذِینَ جَاؤُوا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلاِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالإِیمَانِ } (اور ان لوگوں کے لیے جو ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہماری بخشش فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی جو ہم سے پہلے ایمان لائے) میں ان لوگوں میں سے ہوں، حجاج نے کہا : آپ نے سچ فرمایا۔