(۳۱۱۹۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ قُرَیْشٍ یُقَالَ لَہُ : ثُمَامَۃُ کَانَ عَلَی صَنْعَائَ ، فَلَمَّا جَائَہ قَتْلُ عُثْمَانَ بَکَی فَأَطَالَ الْبُکَائَ ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : الْیَوْمُ اُنْتُزِعَتِ النُّبُوَّۃُ - أوَخِلاَفَۃُ النُّبُوَّۃِ - مِنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَصَارَتْ مُلْکًا وَجَبْرِیَّۃً ، مَنْ غَلَبَ عَلَی شَیْئٍ أَکَلَہُ۔
(٣١١٩٠) حضرت ابو قلابہ (رض) سے روایت ہے کہ قریش کا ایک آدمی جس کو ثمامہ کہا جاتا تھا صنعاء کا حاکم تھا، جب اس کے پاس حضرت عثمان (رض) کی شہادت کی خبر پہنچی تو وہ رونے لگا اور بہت رویا، جب اس کو افاقہ ہوا تو اس نے کہا : آج کے دن نبوت چھین لی گئی یا کہا کہ نبوت کی خلافت چھین لی گئی، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت سے، اور یہ خلافت بادشاہت اور جبری حکومت میں تبدیل ہوگئی جو جس چیز پر غالب ہوجائے گا اس کو ہڑپ کر جائے گا۔