(۳۱۱۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَیْہِ کَأَنَّہُمَا عَسِیبَا نَخْلٍ وَہُوَ یَقُولُ : وَاللہِ لَوَدِدْت أَنِّی لاَ أَغْبرَ فِیکُمْ فَوْقَ ثَلاَثٍ ، فَقَالُوا : إلَی رَحْمَۃِ اللہِ وَمَغْفِرَتِہِ ، فَقَالَ : مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَفْعَلَ وَلَوْ کَرِہَ أَمْرًا غَیْرَہُ۔
وَزَادَ فِیہِ ابْنُ بِشْرٍ : ہَلِ الدُّنْیَا إلاَّ مَا عَرَفْنَا وَجَرَّبْنَا؟!
(٣١١٩٢) حضرت قیس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ (رض) کو مرض الموت میں سنا اور اس وقت انھوں نے اپنے بازو چڑھا رکھے تھے اور وہ ایسے لگ رہے تھے جیسے کھجور کی شاخیں ہوتی ہیں اور فرما رہے تھے کہ میں تمہارے درمیان تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہوں گا، لوگوں نے کہا کہ آپ اللہ کی رحمت اور مغفرت کی طرف جائیں گے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں ، اور اگر کسی بات کو ناپسند کرتے ہیں تو اس کو تبدیل فرما دیتے ہیں، ابن بشر نے اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ ” دنیا وہی تو ہے جس کو ہم نے پہچانا اور جس کا ہم نے تجربہ کیا۔