(۳۱۱۹۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قَالَ زِیَادٌ : مَا غَلَبَنِی أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ بِشَیْئٍ مِنَ السِّیَاسَۃِ إلاَّ بِبَابٍ وَاحِدٍ ، اسْتَعْمَلْت فُلاَنًا فَکَسرَ خَرَاجُہُ فَخَشِیَ أَنْ أُعَاقِبَہُ ، فَفَرَّ إلَی أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ فَکَتَبَ إلَیْہِ : إنَّ ہَذَا أَدَبُ سُوئٍ لِمَنْ قِبَلِی ، فَکَتَبَ إلَیَّ : أَنَّہُ لَیْسَ یَنْبَغِی لِی وَلاَ لَک أَنْ نَسُوسَ النَّاسَ سِیَاسَۃً وَاحِدَۃً ، أَنْ نَلِینَ جَمِیعًا فَیَمْرَجَ النَّاسُ فِی الْمَعْصِیَۃِ ، وَلاَ أَنْ نَشْتَدَّ جَمِیعًا فَنَحْمِلَ النَّاسَ عَلَی الْمَہَالِکَ ، وَلَکِنْ تَکُونُ لِلشِّدَّۃِ وَالْفَظَاظَۃِ وَالْغِلْظَۃ ، وَأَکُونُ لِلِّینِ وَالرَّأْفَۃِ وَالرَّحْمَۃِ۔
(٣١١٩٥) حضرت شعبی (رض) کہتے ہیں کہ زیاد نے کہا کہ امیر المؤمنین سیاست کے کسی باب میں مجھ پر غالب نہیں ہوئے سوائے ایک باب کے، میں نے ایک آدمی کو ایک علاقے کا عامل بنایا اس نے اس کی آمدنی کم کردی، اس کو میری سرزنش کا خوف ہوا تو وہ امیر المؤمنین کی طرف بھاگا، میں نے ان کی طرف لکھا کہ یہ کام پہلے لوگوں کے طرز عمل کے خلاف ہے ، انھوں نے میری طرف لکھا کہ میرے اور تمہارے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم لوگوں سے ایک جیسی سیاست روا رکھیں، اگر ہم سب کے لیے نرم پڑجائیں گے تو سب گناہوں میں پڑجائیں گے، اور اگر ہم سب کے لیے سخت طبیعت ہوجائیں گے تو یہ ہلاکت کے راستوں پر لوگوں کو چلانا ہوگا، صحیح طریقہ یہ ہے کہ تم سختی و درشتی اور سخت طبعی کے لیے مناسب ہو اور میں نرمی ، محبت اور رحمت کے لیے مناسب ہوں۔