(۳۱۱۹۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ ہُزَیْلَ بْنِ شُرَحْبِیلَ ، قَالَ : خَطَبَہُمْ مُعَاوِیَۃُ ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ! إنَّکُمْ جِئْتُمْ فَبَایَعْتُمُونِی طَائِعِینَ ، وَلَوْ بَایَعْتُمْ عَبْدًا حَبَشِیًّا مُجَدَّعًا لَجِئْت حَتَّی أُبَایِعَہُ مَعَکُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا نَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ قَالَ لَہُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : تَدْرِی أَیَّ شَیْئٍ جِئْت بِہِ الْیَوْمَ ؟! زَعَمْت أَنَّ النَّاسَ بَایَعُوک طَائِعِینَ ، وَلَوْ بَایَعُوا عَبْدًا حَبَشِیًّا مُجَدَّعًا لَجِئْت حَتَّی تُبَایِعَہُ مَعَہُمْ ، قَالَ : فَقَامَ مُعَاوِیَۃُ إلَی الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ! وَہَلْ کَانَ أَحَدٌ أَحَقَّ بِہَذَا الأَمْرِ مِنِّی؟۔
(٣١١٩٨) حضرت ھزیل بن شرحبیل (رض) فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت معاویہ (رض) نے خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو ! تم لوگ آئے اور تم نے میرے ہاتھ پر خوش دلی کے ساتھ بیعت کرلی، اور اگر تم کسی کان ناک کٹے ہوئے حبشی غلام کے ہاتھ پر بھی بیعت کرلیتے تو میں بھی تمہارے ساتھ اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے جاتا، راوی فرماتے ہیں کہ جب آپ منبر سے اترے تو ان سے حضرت عمرو بن عاص (رض) نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ تم نے آج کیا کام کیا ہے ؟ تم یہ گمان کرتے ہو کہ لوگوں نے تمہارے ہاتھ پر خوش دلی کے ساتھ بیعت کی ہے، اور اگر وہ کسی کان ناک کٹے ہوئے حبشی غلام کے ہاتھ بیعت کرلیتے تو تم بھی ان کے ساتھ بیعت کرنے کے لیے جاتے، راوی فرماتے ہیں کہ یہ سن کر حضرت معاویہ (رض) منبر پر چڑھے اور فرمایا کہ اے لوگو ! کیا اس کام کا مجھ سے زیادہ حق دار بھی کوئی اور شخص ہے ؟