(۳۱۲۰۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو مُحَلِّمٍ الْہَمْدَانِیُّ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : أَتَی رَجُلٌ مُعَاوِیَۃَ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، عِدَتَکَ الَّتِی وَعَدْتنِی ، قَالَ : وَمَا وَعَدْتُک ؟ قَالَ : أَنْ تَزِیدَنِی مِئَۃ فِی عَطَائِی ، قَالَ : مَا فَعَلْت ، قَالَ : بَلَی ، قَالَ : مَنْ یَعْلَمُ ذَلِکَ ؟ قَالَ الأَسْوَدُ ، أَو ابْنُ الأَسْوَدِ ، قَالَ : مَا یَقُولُ ہَذَا یَا ابْنَ الأَسْوَدِ؟ قَالَ : نَعَمْ قَدْ زِدْتہ ، فَأَمَرَ لَہُ بِہَا ، ثُمَّ إنَّ مُعَاوِیَۃَ ضَرَبَ بِیَدَیْہِ إحْدَاہُمَا عَلَی الأُخْرَی ، فَقَالَ : مَا بِی مِئَۃٌ زِدْتہَا رَجُلاً وَلَکِنْ بِی غَفْلتی أَنْ أَزِیدَ رَجُلاً مِنَ الْمُہَاجِرِینَ مِئَۃ ، ثُمَّ أَنْسَاہَا ، فَقَالَ لَہُ ابْنُ الأَسْوَدِ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ! فَہُوَ آمِن عَلَیْہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَوَاللہِ مَا زِدْتہ شَیْئًا وَلَکِنَّہُ لاَ یَدْعُونِی رَجُلٌ إلَی خَیْرٍ یُصِیبُہُ مِنْ ذِی سُلْطَانٍ إلاَّ شَہِدْت لَہُ بِہِ ، وَلاَ شَرٍّ أَصْرِفُہُ عَنْہُ مِنْ ذِی سُلْطَانٍ إلاَّ شَہِدْت لَہُ بِہِ۔
(٣١٢٠٢) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت معاویہ (رض) کے پاس آیا اور اس نے کہا اے امیرالمؤمنین ! میرے ساتھ کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کریں۔ آپ (رض) نے پوچھا کہ میں نے تجھ سے کیا وعدہ کیا تھا ؟ اس نے کہا کہ آپ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ آپ میرے وظیفے میں سو درہم کا اضافہ فرمائیں گے، آپ نے فرمایا کہ کیا تو نے کوئی کام کیا تھا ؟ اس نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا اس بات کو کون جانتا ہے ؟ اس نے کہا اسود، یا کہا ابن الأسود، آپ نے فرمایا اے ابن الاسود یہ کیا کہتا ہے ؟ انھوں نے کہا جی ہاں ! اے امیرالمؤمنین آپ نے اس کے وظیفے میں اضافہ فرمایا تھا، آپ نے اس اضافے کے دینے کا حکم فرما دیا، پھر آپ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا مجھے اس بات کا غم نہیں کہ میں نے کسی آدمی کے لیے سو دراہم کے اضافے کا حکم دے دیا، بلکہ مجھے اپنی غفلت کا افسوس ہے کہ میں نے مہاجرین کے ایک آدمی کے وظیفے میں سو دراہم کا اضافہ کیا اور پھر میں ان کو بھول گیا ، اس پر ابن الأسود نے فرمایا : اے امیرالمؤمنین ! کیا ان دراہم کے بارے میں وہ بےخوف رہے گا ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں ! انھوں نے کہا اللہ کی قسم آپ نے اس کے لیے کوئی اضافہ نہیں فرمایا ، لیکن جو شخص مجھے دعوت دیتا ہے کہ میں اس کے لیے ان پیسوں کے بارے میں گواہی دوں جو اس کو کسی رئیس سے ملیں گے تو میں اس کے لیے گواہی دیتا ہوں، اسی طرح جو شخص مجھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ میں اس کے لیے کسی شر کے دور کرنے کے بارے میں گواہی دوں جو اس کو کسی صاحب منزلت آدمی سے پہنچنے کا خوف ہو تو میں اس کے لیے گواہی دیتا ہوں۔