(۳۱۲۰۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ وَہْبِ بْنِ کَیْسَانَ ، قَالَ : کَتَبَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ إلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ حِینَ بُویِعَ : سَلاَمٌ عَلَیْک فَإِنِّی أَحْمَدُ إلَیْک اللَّہَ الَّذِی لاَ إلَہَ إلاَّ ہُوَ ، أَمَّا بَعْدُ : فَإِنَّ لأَہْلِ طَاعَۃِ اللہِ وَلأَہْلِ الْخَیْرِ عَلاَمَۃٌ یُعْرَفُونَ بِہَا وَتُعْرَفُ فِیہِمْ : مِنَ الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ وَالْعَمَلِ بِطَاعَۃِ اللہِ ، وَاعْلَمْ أَنَّمَا مَثَلُ الإِمَامِ مَثَلُ السُّوقِ : یَأْتِیہ مَا کَانَ فِیہِ ، فَإِنْ کَانَ بَرًّا جَائَ ہُ أَہْلُ الْبِرِّ بِبِرِّہِمْ ، وَإِنْ کَانَ فَاجِرًا جَائَ ہُ أَہْلُ الْفُجُورِ بِفُجُورِہِمْ۔
(٣١٢٠٤) وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن زبیر (رض) کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تو عراق کے ایک آدمی نے ان کی طرف خط لکھا : ” السلام علیکم ! میں آپ کے سامنے اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ اما بعد ! اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار بندوں اور اہل خیر کی کچھ علامتیں ہیں جن کے ذریعے وہ پہچانے جاتے ہیں اور وہ چیزیں ان میں نظر آتی ہیں، امر بالمعروف ، نھی عن المنکر، اور اللہ تعالیٰ کی فرمان برداری بجا لانا، اور جان لو کہ امام کی مثال بازار کی سی ہے ، کہ اس میں اسی طرح کے لوگ آتے ہیں جس طرح کی اس کے اندر چیزیں ہوتی ہیں، اگر وہ اہل خیر ہو تو اس کے پاس بھی نیک لوگ آتے ہیں اور اگر وہ فاجر ہو تو اس کے پاس بھی فاسق و فاجر لوگ اپنے فسق و فجور کے ساتھ آتے ہیں۔