(۳۱۲۲۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ رِضَی بْنِ أَبِی عَقِیلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنَّا عَلَی بَابِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ بِالشِّعبِ فَخَرَجَ ابْنٌ لَہُ - لَہُ ذُؤَابَتَانِ - فَقَالَ یَا مَعْشَرَ الشِّیعَۃِ ، إنَّ أَبِی یُقْرِئُکُمُ السَّلاَمَ ، قَالَ : فَکَأَنَّمَا کَانَتْ عَلَی رُؤُوسِہِمُ الطَّیْرُ ، قَالَ : إنَّ أَبِی یَقُولُ : إنَّا لاَ نُحِبُّ اللَّعَّانِینَ ، وَلاَ الْمُفرِطِینَ ، وَلاَ الْمُسْتَعْجِلِینَ بِالْقَدَرِ۔
(٣١٢٢٩) ابو عقیل فرماتے ہیں کہ ہم ایک گھاٹی میں حضرت محمد ابن حنفیہ کے دروازے پر تھے ، ان کا بیٹا گھر سے نکلا جس کے دو مینڈھیاں بنی ہوئی تھیں اس نے کہا اے حضرت علی کے ساتھیوں کی جماعت ! میرے والد صاحب آپ کو سلام کہتے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ وہ اس طرح مؤدّب ہوگئے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، پھر اس نے کہا میرے والد صاحب فرماتے ہیں کہ ہم لعنت کرنے والوں ، حد سے تجاوز کرنے والوں اور تقدیر کے فیصلے میں جلدی کرنے والوں سے محبت نہیں کرتے۔