(۳۱۲۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَرْسَلِنِی عَلِیٌّ إلَی طَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرِ یَوْمَ الْجَمَلِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَہُمَا : إنَّ أَخَاکُمَا یُقْرِئُکُمَا السَّلاَمَ وَیَقُولُ لَکُمَا : ہَلْ وَجَدْتُمَا عَلَیَّ فِی حَیْفٍ فِی حُکْمٍ ، أَوْ فِی اسْتِئْثَارٍ فِی فَیْئٍ ، أَوْ فِی کَذَا ، أَوْ فِی کَذَا ؟ قَالَ : فَقَالَ الزُّبَیْرُ : لاَ ولاَ فِی وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا ، وَلَکِنْ مَعَ الْخَوْفِ شِدَّۃُ الْمَطَامِعِ۔
(٣١٢٣٦) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت علی (رض) نے طلحہ (رض) اور زبیر (رض) کی طرف جنگ جمل کے دن قاصد بنا کر بھیجا، میں نے ان دونوں سے کہا ، آپ کے بھائی آپ کو سلام کہتے ہیں اور آپ سے فرماتے ہیں کہ کیا آپ کو مجھ پر کسی معاملے کے فیصلے میں ظلم کرنے پر ناراضگی ہے یا کسی مال غنیمت پر اپنا قبضہ کرنے کے بارے میں یا فلاں فلاں بات میں ؟ فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر (رض) نے جواب دیا کہ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے، بلکہ کچھ ایسا خوف ہے جس کے ساتھ سخت نوع کی طمع جمع ہوگئی ہے۔