(۳۱۲۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَنْتَرَۃَ ، عَنْ سُلَیْمِ بْنِ حَنْظَلَۃَ ، قَالَ : أَتَیْنَا أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ لِنَتَحَدَّثَ مَعَہُ ، فَلَمَّا قَامَ یَمْشِی قُمْنَا لِنَمْشِی مَعَہُ ، فَلَحِقَہُ عُمَرُ فَرَفَعَ عَلَیْہِ الدِّرَّۃَ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ : أَعْلَمُ مَا تَصْنَعُ ، قَالَ : مَا تَرَی فِتْنَۃً لِلْمَتْبُوعِ ذِلَّۃً لِلتَّابِعِ۔
(٣١٢٤٤) حضرت سلیم بن حنظلہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابی ّ بن کعب (رض) کے پاس حاضر ہوئے تاکہ ان سے بات چیت کریں، جب آپ چلنے کے لیے کھڑے ہوئے ہم بھی ان کے ساتھ چلنے کے لیے کھڑے ہوگئے، چنانچہ ان کو حضرت عمر (رض) ملے تو انھوں نے ان پر درّہ اٹھا لیا انھوں نے عرض کیا اے امیر المؤمنین یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیا تم یہ دیکھ نہیں رہے ؟ یہ چیز آگے چلنے والے کے لیے فتنہ ہے اور پیچھے چلنے والے کے لیے ذلّت کی بات ہے۔