(۳۱۲۵۷) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : لَمَّا رَجَعَ عَلِیٌّ مِنَ الْجَمَلِ ، وَتَہَیَّأَ إلَی صِفِّینَ اجْتَمَعَتِ النَّخْعُ حَتَّی دَخَلُوا عَلَی الأَشْتَرِ ، فَقَالَ : ہَلْ فِی الْبَیْتِ إلاَّ نَخْعِیٌّ ، قَالُوا : لاَ ، قَالَ : إنَّ ہَذِہِ الأُمَّۃَ عَمَدَتْ إلَی خَیْرِہَا فَقَتَلَتْہُ ، وَسِرْنَا إلَی أَہْلِ الْبَصْرَۃِ قوْمٌ لَنَا عَلَیْہِمْ بَیْعَۃٌ فَنُصِرْنَا عَلَیْہِمْ بِنَکْثِہِمْ ، وَإِنَّکُمْ سَتَسِیرُونَ إلَی أَہْلِ الشَّامِ قَوْمٌ لَیْسَ لَکُمْ عَلَیْہِمْ بَیْعَۃٌ ، فَلْیَنْظُرَ امْرُؤٌ مِنْکُم أَیْنَ یَضَعُ سَیْفَہُ ؟!۔
(٣١٢٥٧) حضرت عمیر بن سعد فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی (رض) جنگ جمل سے واپس ہوئے اور صفّین کی تیاری کرنے لگے تو قبیلہ نخع والے جمع ہو کر اشتر کے پاس پہنچ گئے، آپ نے پوچھا کہ اس گھر میں قبیلہ نخع کے لوگوں کے علاوہ کوئی آدمی نہیں ؟ انھوں نے نفی میں جواب دیا، آپ نے فرمایا بیشک اس جماعت نے اپنے بہترین آدمی قتل کردیے، اور ہم نے اہل بصرہ کی طرف پیش قدمی کی جن پر ہمارا بیعت کا حق تھا پس ان کی عہد شکنی کے ساتھ ہماری مدد کی گئی، بیشک تم لوگ عنقریب اہل شام کی طرف کوچ کرو گے جن پر تمہیں بیعت کا حق حاصل نہیں ہے، اس لیے ہر آدمی کو چاہیے کہ دیکھ لے اور خوب سوچ لے کہ اپنی تلوار کہاں چلائے گا۔