(۳۱۲۷۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : قَالَ ابْن الزُّبَیْرُ لِعُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ : کَلِّمْ ہَؤُلاَئِ لأَہْلِ الشَّامِ رَجَائَ أَنْ یَرُدَّہُمْ ذَاکَ ، فَسَمِعَ ذَلِکَ الْحَجَّاجُ فَأَرْسَلِ إلَیْہِمْ : ارْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ ، فَلاَ تَسْمَعُوا مِنْہُ شَیْئًا ، فَقَالَ عُبَیْدٌ : وَیْحَکُمْ ، لاَ تَکُونُوا کَاَلَّذِینَ قَالُوا : {لاَ تَسْمَعُوا لِہَذَا الْقُرْآنِ وَأَلْغَوْا فِیہِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُونَ}۔
(٣١٢٧٤) ابن ابی ملیکہ روایت کرتے ہیں کہ ابن زبیر نے عبید بن عمیر سے فرمایا کہ ان شامیوں سے بات کرو تاکہ وہ واپس لوٹ جائیں، حجاج نے یہ سن کر لوگوں کے پاس پیغام بھیجا کہ اپنی آوازیں بلند کرلو تمہیں ان کی بات سنائی نہ دے، تو عبید نے فرمایا تمہاری ہلاکت ہو ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے کہا ” اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں شوروغل کرو تاکہ تم غالب ہو جاؤ۔ “