(۳۱۲۸۳) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِعُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ : ذَہَبْتُمْ بِالدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ ، قَالَ : وَمَا ذَاکَ ؟ قَالَ : لَکُمْ أَمْوَالٌ تَصَدَّقُونَ مِنْہَا وَتَصِلُونَ مِنْہَا ، وَلَیْسَتْ لَنَا أَمْوَالٌ ، قَالَ : لَدِرْہَمٌ یَأْخُذُہُ أَحَدُکُمْ فَیَضَعُہُ فِی حَقٍّ أَفْضَلَ مِنْ عَشَرَۃِ آلاَفٍ یَأْخُذُہا أَحَدُنَا غَیضًا مِنْ فَیْضٍ فَلاَ یَجِدُ لَہَا مَسًّا۔
(٣١٢٨٣) اسرائیل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عثمان بن ابی العاص سے کہا کہ تم دنیا اور آخرت دونوں ہی لے گئے، انھوں نے پوچھا کیسے ؟ کہنے لگا آپ کے پاس مال ہیں جن میں سے آپ صدقہ کرتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں، اور ہمارے پاس مال نہیں ہیں، آپ نے فرمایا ایک درہم جس کو تم میں سے کوئی شخص لے کر حق طریقے سے خرچ کرتا ہے ان دس ہزار دراہم سے افضل ہے جو ہم میں سے کوئی بہت زیادہ میں سے لیتا ہے لیکن اس میں اس کو تصرف کا کوئی حق نہیں ہوتا۔