(۳۱۲۸۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ الْوَلِیدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ أَیُّوبَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبُو إیَاسٍ مُعَاوِیَۃُ بْنُ قُرَّۃَ ، قَالَ : کُنْتُ نَازِلاً عِنْدَ عَمْرِو بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، فَلَمَّا حضَرَ رَمَضَانُ ، جَائَہُ رَجُلٌ بِأَلْفَیْ دِرْہَمٍ مِنْ قِبَلِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، فَقَالَ : إنَّ الأَمِیرَ یُقْرِئُک السَّلاَمَ وَیَقُولُ : إنَّا لَمْ نَدَعْ قَارِئًا شَرِیفًا إلاَّ وَقَدْ وَصَلَ إلَیْہِ مِنَّا مَعْرُوفٌ ، فَاسْتَعِنْ بِہَذَیْنِ عَلَی نَفَقَۃِ شَہْرِکَ ہَذَا ، فَقَالَ عَمْرٌو : اقْرَأْ عَلَی الأَمِیرِ السَّلاَمَ ، وَقُلْ لَہُ : إنَّا وَاللہِ مَا قَرَأْنَا الْقُرْآنَ نُرِیدُ بِہِ الدُّنْیَا ، وَرَدَّہُ عَلَیْہِ۔
(٣١٢٨٩) ابو ایاس معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میں عمرو بن نعمان بن مقرن کے پاس ٹھہرا ہو اتھا، جب رمضان کا مہینہ آیا تو ان کے پاس ایک آدمی مصعب بن زبیر کی طرف سے درہم لے کر آیا اور کہا کہ امیر آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے کسی صاحب شرافت قاری کو بھی اپنی جانب سے بھلائی سے محروم نہیں کیا، آپ یہ دو ہزار درہم لے لیں اور اس مہینے کے خرچ میں اس سے مدد حاصل کرلیں، حضرت عمرو نے جواب میں فرمایا کہ امیر کو میرا سلام کہو اور ان سے کہو کہ واللہ ! ہم نے دنیا حاصل کرنے کی نیّت سے قرآن نہیں پڑھا ، یہ کہہ کر وہ دراہم واپس کردیے۔