(۳۱۳۰۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَتَبَ زِیَادٌ إلَی الْحَکَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِیِّ وَہُوَ عَلَی خُرَاسَانَ: إِنَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ کَتَبَ: أَنْ تُصْطَفَی لَہُ الصَّفْرَائُ وَالْبَیْضَائُ ، فَلاَ یُقَسَّمُ بَیْنَ النَّاسِ ذَہَبًا وَلاَ فِضَّۃً، فَکَتَبَ إلَیْہِ: بَلَغَنِی کِتَابُک، تَذْکُرُ أَنَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ کَتَبَ أَنْ تُصْطَفَی لَہُ الْبَیْضَائُ وَالصَّفْرَائُ، وَأَنِّی وَجَدْت کِتَابَ اللہِ قَبْلَ کِتَابِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ ، وَإِنَّہُ وَاللہِ لَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا عَلَی عَبْدٍ ثُمَّ اتَّقَی اللَّہَ جَعَلَ اللَّہُ لَہُ مَخْرَجًا ، وَالسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : اغْدُوَا عَلَیَّ بِمَالِکُمْ ، فَغَدَوْا ، فَقَسمَہُ بَیْنَہُمْ۔
(٣١٣٠٣) حضرت حسن سے روایت ہے کہ زیاد نے حکم بن عمرو غفاری کو پیغام بھیجا جو خراسان کے عامل تھے کہ امیر المؤمنین فرماتے ہیں کہ ان کے لیے سونا اور چاندی علیحدہ کرلی جائے اور لوگوں کے درمیان تقسیم نہ کی جائے، انھوں نے جواب میں لکھا : مجھے آپ کا خط ملا جس میں آپ نے ذکر کیا ہے کہ امیر المؤمنین نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ ان کے لیے سونا اور چاندی علیحدہ رکھ لیا جائے، اور میں نے امیر المؤمنین کے خط سے پہلے کتاب اللہ کو پڑھ لیا ہے، بخدا اگر آسمان و زمین کسی بندے پر بالکل بند بھی ہوجائیں پھر وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے راہ نکال دیں گے، والسلام علیکم، پھر انھوں نے لوگوں سے فرمایا کہ صبح میرے پاس اپنے مال لاؤ ، چنانچہ وہ لائے تو آپ نے وہ سارا مال ان کے درمیان تقسیم کردیا۔