(۳۱۳۱۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ بْنِ صَفِیَّۃَ ، عَنْ أُمِّہِ ، قَالَتْ : دَخَلَ ابْنُ عُمَرَ الْمَسْجِدَ ، وَابْنُ الزُّبَیْرِ مَصْلُوبٌ ، فَقَالُوا لَہُ : ہَذِہِ أَسْمَائُ ، فَأَتَاہَا فَذَکَّرَہَا وَوَعَظَہَا ، وَقَالَ : إنَّ الْجُثَّۃُ لَیْسَتْ بِشَیْئٍ ، وَإِنَّمَا الأَرْوَاحُ عِنْدَ اللہِ ، فَاصْبِرِی وَاحْتَسِبِی ، فَقَالَتْ : مَا یَمْنَعُنِی مِنَ الصَّبْرِ ، وَقَدْ أُہْدِیَ رَأْسُ یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا إلَی بَغِیٍّ مِنْ بَغَایَا بَنِی إسْرَائِیلَ۔
(٣١٣١٧) حضرت صفیہ روایت کرتی ہیں کہ ابن عمر (رض) مسجد حرام میں داخل ہوئے جبکہ حضرت ابن زبیر (رض) سولی پر لٹکے ہوئے تھے، لوگوں نے آپ سے فرمایا کہ حضرت اسمائ (رض) تشریف لا رہی ہیں، حضرت ابن عمر (رض) حضرت اسماء کے پاس گئے اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور کہا کہ جسم کی کچھ حقیقت نہیں، اور روحیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہوتی ہیں، آپ صبر کیجیے ! اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھیے ! انھوں نے فرمایا مجھے صبر سے کیا مانع ہے ؟ جبکہ یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کا سر بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت کو دے دیا گیا تھا۔